جس دیس کے کوچے کوچے میں افلاس اوارہ پھرتا ہو
جو دھرتی بھوک اگلتی ہو دکھ درد فلک سےگرتے ہوں
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی آہوں سے پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی زنداں میں ڈالے جاتے ہوں
جہاں مجبوروں کے خون سے اپنے جرم بھی دھوئے جاتے ہوں
اس دیس کی مٹی برسوں سے ، یہ دکھ جگر پہ سہتی ہے
اس دیس کے بے حس لوگوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی مبارک کھتے ہیں۔ آزادی مبارک کھتے ہیں۔۔

No comments:
Post a Comment