مہزب انداز میں بات چیت کر رہے ہیں۔۔۔یکین نیں آتا ؟؟؟ویڈیو دیکھ لیں خود مان جاےئنگے۔
7/30/11
ہیں کواکب کے کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔۔۔۔۔دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔
مہزب انداز میں بات چیت کر رہے ہیں۔۔۔یکین نیں آتا ؟؟؟ویڈیو دیکھ لیں خود مان جاےئنگے۔
7/29/11
کراچی کے حالات اور ملک کا مستقبل
میرے عزیز ہم وطنوں ایک بار پھر سے کراچی کے حالات خراب ہوگے اور ہمارے سیاست دان اس بات کو لیکر بہت خوش ہیں کہ ہم مفہاہمت کی سیاست کر رہے ہیں اور دوبارہ سے لندن ولوں کو شراکت اقتدار میں واپس لے آئیں ہیں۔ اور امن بحال کرالیا ہے۔کیا کوئی ان سے پوچھے کہ امن کس کو کھتے ہیں کیا ہمارے اقتدار میں بیٹھے ہوئے لیڈ ران کو امن کا نہں پتا کہ امن کیا ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔ کیا روزانہ معصوم عوام کا قتل عام امن ہے؟؟ کیا روزانہ کراچی میں جاری قتل عام امن ہے ؟؟؟؟ کیا سینکڑوں لوگوں کی جان کی قیمت صرف یہ ہے کہ مفاہمت کی سیاست کرنی ہے اور اپنے اقتدار کو طول دینی ہے؟؟؟؟کیا ان لوگوں کی قربانی کی کوئی قیمت نہیں؟؟؟ میں سوال پوچہتا ہوں آپ سے کے کیا اس سب کے باوجود بھی ہمیں دوبارہ ایسے ہی نمائندے لانے چاہے؟؟؟؟ کیا پاکستان کی عوام کے نصیب میں یہی کچھ لکھا ہے؟؟؟؟؟ نہیں ایسا اب نہیں ہوگا اب ہمیں نیند سے اٹھنا ہوگا جاگنا ہوگا اور ہمیں محسوس کرنا ہوگا ۔اس ملک کی اس عوام کی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقاعہ عزیز ہے تو ہمیں لازمی یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح سے اپنے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اور ہمیں اپنے اندر یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ ہم دوسرے کے دکھ کو محسوس کریں اور ہم خو د کو بھی عوام تصور کریں اور اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم خود کو عوام نہ سمھجیں ہمیں اپنے گریباں میں ہی جھانکنا ہوگا۔۔۔۔احتساب خود سے ہی شروع کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن کب فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
7/20/11
"جنگ در اصل دوسرے پر تشدذریعوں سے سیاست کا تسلسل ہوتی ہے‘‘
بسمارک کے مشہور پروشیائی جرنیل کارل وان کلازوٹز نے کہا تھا کہ ’’جنگ در اصل دوسرے پر تشدذریعوں سے سیاست کا تسلسل ہوتی ہے‘‘۔
بر صغیرِجنوبی ایشیا میں بھی جنگ کا خوف اور امن مذاکرات ، ان ممالک کے عوام کو فریب دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کی اشرافیہ، دونوں ممالک کے درمیان ہنگامہ خیز تعلقات کو ،کبھی گرم اور کبھی سرد کر کے اپنے ممالک میں ابھرنے والی سماجی بغاوتوں کا رخ موڑنے کے لیے استعمال کرتی چلی ہے اور جب مہم جوئی میں سے ہوا نکل جاتی ہے تو وہ امن اور دوستی کا ناٹک رچانا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اس دوران ہر طرح کی کیفیت میں وہ اسلحہ جمع اور فوجی سازوسامان پر بے پناہ پیسہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین ساڑھے تین جنگیں ہو چکی ہیں اوردس پندرہ مرتبہ امن مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ لیکن اس دور کی حقیقت یہ ہے کہ نہ تو وہ جنگ لڑنے کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں ایک مرتبہ پھر سے بتایا جا رہا ہے کہ بات چیت شروع ہو گئی ہے اور تعطل کا شکار ’جامع مذاکرات‘ کا عمل پھر سے شروع ہونے والا ہے۔
پتھر جیسی ذہنیت رکھنے والے ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں اور بیوروکریٹوں کے مابین مذکرات سفر سے پہلے شراب کے آخری گھونٹ کی مانند ہوتے ہیں، اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور بالآخر عوام ایک مرتبہ پھر دکھتے ہوئے سر لیے بیدار ہوتے ہیں اور ان کے سروں پر جنگ کا خطرہ کسی ننگی تلوار کی مانند لٹک رہا ہوتا ہے۔ یہ ’’مذاکرات برائے مذاکرات ‘‘ کا ایسا شیطانی چکر ہے جس میں ہر کچھ عرصے بعد تناؤ پیدا ہو جاتا ہے اور عوام کی بڑی اکثریت کی امیدوں پر پانی پھر جاتا جن کی سرحد کے پار اپنے طبقاتی بھائیوں اور بہنوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
اس بیہودہ کھیل کا آغاز ادنیٰ درجے کے سفارتکاروں کی بے دخلی سے ہوتا ہے۔ پھر مذہبی انتہا پسند آگ اگلنا شروع کرتے ہیں اور جلد ہی لبرل اور سیکولر اشرافیہ بھی شاونزم کی اس تکرار میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس تناؤ اور اس کے نتیجے میں عسکری تیاریوں سے اربوں کمانے والے اس سارے کھیل کی بہت باریکی سے منصوبہ بندی اور صفائی سے عملدرآمد کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دو ایٹمی طاقتوں کے مابین مکمل جنگ سے بچنے کی بھی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔
’جنگ کے خطرے‘ سے محض دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ امن اور جنگ کی اس نوٹنکی سے سامراجیوں کے بھی گہرے مفادات وابستہ ہیں۔ ہندوستان اس وقت روایتی ہتھیاروں کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار ہے۔ ان کی درآمد میں چین دوسرے نمبر پر ہے جس کے بعد جنوبی کوریا اور پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ اگر جی ڈی پی کے تناسب میں دیکھا جائے تو پاکستان اسلحے کی خرید پر کہیں زیادہ خرچ کرتا ہے۔ ہتھیاروں کی یہ دوڑ اسلحے کی صنعت کی تجوریاں بھرے جا رہی ہے، بالخصوص امریکہ میں۔ بر صغیر میں ایٹمی پروگرام پر خرچ کی جانے والی بے پناہ دولت کو اگر ایک منصوبہ بند معیشت میں استعمال کیا جاتا، تو یہ اس خطے سے جہالت، بیماری اور غربت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے کافی ہوتی۔
یہ ایٹمی پاگل پن اب بھی دونوں ممالک کی معیشت کا مسلسل خون نچوڑ رہا ہے۔ہر طرف اذیت، غربت اور بیماری کا راج ہے۔ سامراجی کاروبار اور اہلکار بھی ہندوستان کی سیاست میں اتنے ہی گھسے ہوئے ہیں جتنا کہ پاکستان میں۔ گارڈین اخبار میں حال ہی میں چھپا ایک مضمون واضح کرتا ہے کہ یہ بے غیرتی کی حد تک دھوکہ باز اور ضمیر فروش حکمران طبقہ اور اس کا جمہوریت کا ڈھونگ سامراج کا تابع فرماں اور کارپوریٹ طاقت کے گٹھ جوڑ کا غلام ہے۔گارڈین اخبار لکھتا ہے کہ ’’ 2008ء میں نہرو گاندھی خاندان کے ایک پرانے درباری کے ایک معاون نے ایک امریکی سفارت کار کو25ملین ڈالر سے بھرے دوصندوق دکھائے جو ممبرانِ پارلیمنٹ کو امریکہ ہندوستان ایٹمی معاہدے کے حق میں ووٹ دینے کے لیے رشوت تھی، اور اس معاہدے نے ہندوستان کو امریکی اسلحے کی بڑے پیمانے پر فروخت کی راہ ہموار کی۔۔۔ہندو بنیاد پرست بی جے پی امریکی سفارت کاروں پر اپنی امریکہ نوازی ثابت کرنے کے لیے بھر پور زور لگا رہی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی خون خوار مذہبی جنونیت کو محض موقع پرستی اور’گپ شپ‘ قرار دے رہے ہیں‘‘۔ سچ تو یہ ہے کہ پہلے دن سے ہی ہندوستانی اور پاکستانی سیاستدان اور جرنیل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ان ’معاہدوں‘ کے ذریعے ان کے بنانے والوں کی جانب سے کِک بیک کی شکل میں بڑی بڑی رقوم سے مستفید ہو رہے ہیں۔
سفارتی مذاکرات کو جان بوجھ کے طویل اور موخر کیا جاتا ہے ۔سر کریک، سیاچن اور دیگر ایسے سادہ نوعیت کے مسائل جنہیں مذکرات کے ایک دور میں ہی حل کیا جا سکتا ہے، شعوری طورپر چلتے رہنے دیے جاتے ہیں۔زیادہ تر مذاکرات بات چیت کی نوعیت اور ان کے ایجنڈے کی ترتیب کے متعلق ہوتے ہیں۔ اور جب یہ تکنیکی معاملات طے پا جائیں، کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ رونما ہو جاتا ہے جس سے مذکرات کا عمل ختم یا تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ سارا عمل ایک مرتبہ پھر صفر سے شروع کرنا پڑتا ہے۔ چونسٹھ پر آشوب اور اذیت ناک برسوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ایک سے دوسرے چولہے پر ڈالا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران طبقات نے باقی بر صغیر کی طرح کشمیر میں بھی قہر نازل کر رکھا ہے۔ برطانوی سامراج کی جانب سے تقسیم کے وقت لگایا جانے والا یہ زخم آج تک رس اور دکھ رہا ہے۔
لیکن کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ان کے دکھوں کا کوئی حل نہیں ہے۔ اب وہ سماجی اور معاشی جدوجہد میں شامل ہو رہے ہیں اور بنیاد پرستی کافی عرصے سے پسپائی کا شکار ہے۔ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ کشمیری عوام قومی آزادی کی تحریک کو سارے بر صغیر میں طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت کو جان رہے ہیں۔ پانی کے مسئلے پر بڑھتے ہوئے تنازعات تقسیم کی جغرافیائی طور پر ناکامی کا اظہار ہیں۔آنے والے دنوں میں ان تنازعات کی شدت میں اضافہ ہو گا اور اس سے ساری صورت حال مزید عدم استحکام کا شکار ہو گی۔
ویزوں کا مسئلہ بھی بر صغیر کے محکوم محنت کش طبقات کے لیے بہت اذیت ناک ہے۔ ’سول سوسائٹی‘ کے امن کے عمل دونوں ممالک کے حکمرانوں سے ویزہ پالیسی میں معقولیت ‘نرمی اور دوستی بڑھانے کے مطالبوں تک محدود رہتے ہیں۔ کیا سادگی ہے! حکمران طبقات، متحارب ریاستوں اور سامراج کو اسی طرح کے دوغلے باہمی تعلقات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہندوستان کو تقسیم صرف اس وقت کیا گیا تھا جب برطانوی اور مقامی ہندو اور مسلم بورژوازی کو یہ احساس ہو گیا کہ آزادی کی جدوجہد قومی خودمختاری کے مرحلے پر نہیں رکے گی بلکہ آگے بڑھتے ہوئے ایک سماجی انقلاب کی شکل اختیار کرے گی جو سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینک کر سامراجی لوٹ مار کا خاتمہ کر دے گی۔
مذہبی منافرت کو اشتعال دینے کے لیے تقسیم کے زخموں کو بار بار کریدا جاتا ہے۔ ہندو اور مسلم انتہا پسندی ایک دوسرے کے بل بوتے پر چلتی ہے اور زہریلے شاؤنزم کو ہوا دے کر طبقاتی جدوجہد کا رخ موڑا جاتا ہے۔ سرمایہ داری کی حدود میں رہتے ہوئے دونوں مخالف ریاستوں کے درمیان کسی طرح کا امن قائم نہیں ہو سکتا
قوم کا فریب
تحریر : لال خان ۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر سا مراج کے سخت گیر رویے اور ان کی حفاظت اور انتہا پسندوں کے قبضے میں جانے کے متعلق امریکی تھینک ٹینکوں کے خدشات نے موجودو سیاست میں کہرام مچا دیا ہے۔
ایٹمی پالیسی پر امریکی موقف منافقت، فریب اور دوہرے میعار پر مبنی ہے۔ اسرائیل کے خفیہ اور بہت بڑے اور خفیہ ایٹمی پروگرام اور حتیٰ کے ضیاء حکومت کے 1980ء کی دہائی کے پر آشوب دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جانب آنکھیں بند کیے رکھنا سامراجی پالیسی سازوں کی موقع پرستی اور سنگ دلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کی اوباما کی گفتگو محظ لفاظی ثابت ہوئی ہے۔ اوباما، سرکوزی، مارکل، میڈوڈیو اور کیمرون کی جانب سے مختصر سے وقت میں ہندوستان کے دوروں کا مقصد ایٹمی ٹیکنالوجی اور اثاثوں کی فروخت اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی منڈی میں توسیع ہے۔ ہندوستان کی جانب سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ٹھکرا دینے کے با وجود اس کے ساتھ سودے کرنے کی جستجو کی جا ری ہے۔ اس حقیقت سے اس معاملے پر سامراج کی حقیقی پالیسی واضح ہو جاتی ہے جو صرف منافع کا حصول ہے نہ کہ دنیا کو محفوظ بنانے کا دعویٰ۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف حالیہ مہم پاکستانی ریاست کے نام نہاد ’بدمعاش‘ حصوں پر سامراجی مطالبات کے آگے جھکنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ میڈیا میں نظر آنے والی پریشانی کسی سنجیدہ پالیسی کی بجائے سفارتی اور سیاسی چال ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی کی طرح اسے بھی اپنے دیگر مفادات کے حصول کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ احمدی نژاد کی جانب سے ان ایٹمی اثاثوں کو ’تباہ‘ کرنے کے امریکی منصوبے کا ’انکشاف‘ اسی شعبدہ بازی کی ایک اور مثال ہے۔
پاکستانی سیاسی اشرافیہ کا رد عمل بھی کوئی کم ڈرامائی اور بے ہودہ نہیں ہے۔ دائیں بازو اور مذہبی جماعتیں قومی شاونزم اور مذہبی منافرت اگلنا شروع ہو گئیں جو کہ غیر متوقع نہیں تھا۔ ملا پاکستان کی سا لمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی کا رونارو رہے ہیں، جیسے واقعی میں ایسی کسی چیز کا وجود ہو!۔ لبرل اور سیکولر سیاسی اور دانشور اشرافیہ نے بھی اس مہم میں شامل ہونے میں دیر نہیں کی۔تاہم ، سیاست دانوں اور میڈیا کے اس قومی شاونزم کو عمومی طور پرسماج میں کوئی اہمیت یا قبولیت نہیں مل سکی۔ عوام اس قوم پرستانہ لفاظی سے تنگ آچکے ہیں۔ ان کی خاموشی اور لا تعلقی ان کی اذیت کا اظہار ہے۔ اس ملک کے پاس ایٹم بم ہے پر یہاں بچے بھوک سے مرتے ہیں۔ چند لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں لیکن اکثریت کے کے پاس جوتے نہیں۔ تکنیکی طور پر ہزاروں سال پیچھے کچے گھروندوں کے درمیان سے جدید ترین موٹر وے گزرتی ہے۔
جھونپڑ پٹیوں اور دیہات میں ٹیلی وژن کیبل توہے لیکن پینے کے صاف پانی کے پائپ نہیں۔ کچی آبادیوں میں ’بیوٹی پارلر‘ تو ہیں لیکن ڈسپینسریاں اورصحت کی دیگر سائینسی سہولیات نہیں ہیں۔ غریبوں میں چند کے پاس گھٹیا قسم کے الیکٹرونک آلات تو ہیں لیکن ان کو چلانے کے لیے بجلی کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ محنت کش طبقات کا بے رحمی سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ بر طرفیاں، ڈاؤن سائزنگ اور ری سٹرکچرنگ سے پہلے سے موجود کروڑوں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محکوم قومیتوں کو مزید محرومی اور جبر کا سامنا ہے۔ ہر سو غربت، بھوک ، محرومی اور اذیت کا راج ہے۔ اس بربادی کی کیفیت میں پاکستان کی سیاسی، فوجی اور بیورو کریٹ اشرافیہ اس قوم پرستی کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے پاکستان کا حکمران طبقہ ابھی تک پیدا ہی نہیں کر سکا۔ الیکٹرونک میڈیا پر ’ہمارے‘ ایٹمی اثاثوں، ’ہماری‘ سا لمیت اور ’ہمارے‘ قومی مفاد کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ کس کے قومی مفادات ہیں؟ یہ مفادات ان کے ہیں جو اس ملک کے مالک ہیں، اس اشرافیہ کے جو اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ انہیں اس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے منافع کمانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اور ’ہم‘ کون ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو ایٹمی اثاثوں کی اصل تعداد اور جگہوں سے واقف ہیں۔
پاکستانی پارلیمینٹ اور بالائی سیاسی پوزیشنوں پر موجود اپنے کاسہ لیسوں کی نسبت امریکی پالیسی ساز ان اثاثوں کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ لاہور اور دہلی کے درمیان بیلسٹک مزائل کے صرف نو منٹ کے فاصلے کے ہوتے ہوئے کیا یہ ہتھیار کبھی استعمال بھی ہو سکتے ہیں؟ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ایٹمی طاقت ’ قوم ‘کے دفاع کے لیے ہے۔لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ساری قوم ایٹمی ہتھیاروں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔
لیکن سب سے بڑا راز اس ایٹمی پروگرام پر آنے والی لاگت کا ہے۔ کیا کبھی کسی نے بھی اور کہیں پر بھی اس کے متعلق کوئی گفتگو یا اس کے بارے میں کسی کو آگاہ کیا ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے؟ نہیں، کیونکہ یہ اس مذہبی ریاست کا ایسا مقدس اثاثہ ہے جس کے بارے میں سوال کرنا گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کم نہیں۔ دو ہندوستانی ماہرین عمرانیات آچن وینائیک اور پرافل بدوائی کی تحقیق کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے ایٹمی پروگرم پر خرچ ہونے والی رقوم اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انہیں سماجی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا تو اس بر صغیر سے غربت اور نا خواندگی کی بیماریوں کا خاتمہ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے بر عکس قومی غیرت اورہندوستان اور پاکستان میں ایٹمی دھماکوں کی یادگاروں کو بار بار شاونزم کو ابھارنے کے لیے استعال کیا جاتا ہے جو طبقاتی جدوجہد کو ماند کرتا ہے اور ہماری زندگیوں پر حکمران طبقے اور اس کے سرمایہ دارانہ نظام کی جکڑ کے شکنجے کو مضبوط کرتا ہے۔ سامراجیوں نے سیاسی اورر یاستی ڈھانچہ اس طرح سے بنا یا ہے کہ یہ سامراجیوں کی دولت سے منسلک ہے اور اس کا مقصد دولت کو عوام میں سے نچوڑ لینا ہے۔ حکمران طبقات اور ان کے سامراجی آقا ایٹم کے اس ’’کاروبار‘‘ سے بہت بڑے منافع کمارہے ہیں۔
درمیانے طبقے کی بالائی پرتیں اس جنونی شاونزم کی بنیاد بنتی ہیں جبکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میں محکوم عوام برباد ہو رہے ہیں۔ان کے خون، پسینے اور آنسوؤں کو نچوڑ کر یہ ریاستیں ایٹمی اسلحے اور روایتی ہتھیاروں کی صورت میں کباڑ کے لوہے پر بے پناہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر چہ ان کا شمار دنیا کی غریب ترین اور کرپٹ ترین ریاستوں میں ہوتا ہے یہ دنیا میں اسلحے کے دس بڑے خریداروں میں سے ہیں۔
ایٹمی کھلونے اور روائتی ہتھیار آبادی کی بڑی اکثریت کو بھوک، غربت، ناخواندگی اور بیماری سے نہیں بچا سکتے۔ اور نہ ہی انہیں روٹی، کپڑا اور مکان دے سکتے ہیں۔ذلت میں رہنے پر مجبور عوام کے لیے یہ کس کام کے ہیں؟ گزشتہ 64برس میں اس ’قومیت‘ نے محکوموں کو کیا دیا ہے؟ امیروں کی قوم نے اربوں روپے بنائے ہیں اور اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی ہوس میں مسلسل کماتے جا رہے ہیں۔ غریبوں کی قوم کو ظلم اور محرومی کا سامنا رہا ہے۔ اور اب بحران کی شدت معاشرے کے سماجی تانے بانے کو توڑ رہی ہے، معاشی ڈھانچے منہدم ہو رہے ہیں اور ریاستی ادارے افرا تفری کا شکار ہیں۔ جب تک یہ نظام موجود ہے، قومی شاونزم، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے تعصبات مزید گہرے اور بد تر ہوتے چلے جائیں گے۔ سامراج لوٹ مار، حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ اور فوجی اخراجات محکوموں کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیں گے۔تاہم، اس خطے کا مقدر بربریت نہیں۔ایک قوت ہے جو ظلم کے اس طوفان کو چیرسکتی ہے اور وہ قوت نوجوان اور پرولتاریہ ہے۔انہوں نے پہلے بھی اس سماج کو بدلنے کی لڑائی لڑی تھی۔اس دفعہ یہ لڑائی انجام تک لڑنا ہو گی۔
7/19/11
7/18/11
7/16/11
کل کے دشمن آج کے دوست؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر ہم یعنی کے عوام اب بہی نہ سمجہیں تو ہم جیسا نا سمجہ کوئ نیہں ہوگا۔ کل تک قاتل لیگ کہنے والے آج جب بات اپنے مفاد کی آئ تو دوست بن گئے اور عوام کو دلاسہ دے دیا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اس لیے اتحا د کرنا وقت کی ذرورت ہے۔ ن لیگ جو کل تک سب سے زیادہ مخالف تہی ایم کیو ایم کے آج گرینڈ آلاءنس بنا رہی ہے اور وہ بہی یہی کہ رہی ہے کہ ملک بہت نازک موڑ سے گزر رہا ہے لیکن سمجہ نہیں آتی کہ آخر یہ نازک موڑ ختم کب ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید یہ نازک موڑ تب تک ختم نہیں ہوگا جب ہم عوام خود منزل کو پانے کے لیعے اپنے سفر کا آغاز نہیں کریں گے اور ان جعلی اور دہوکے باز عوامی لیڈروں سے آزاد ہوکر نہیں سوچیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ہم واقعی ملک کو نازک موڑ سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ہمِیں اپنے فیصلے خود کرنا ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کراچی اور امن کا کبوتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی اور امن دونوں باتیں سننے میں تو بہت بہلی ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر امن کا کبوتر ہے کہاں؟؟؟؟؟؟؟؟مجہے تو یہ کبوتر لندن میں قید نظر آتا ہے جب
وہ چاہتا ہے کبوتر پنجرے میں قید کر لیتا ہے اور امن غاءیب ہو جاتا ہے جب چاہتا ہے امن کا کبوتر آزاد کر دیتا ہے اور امن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی حالیہ مثال کراچی کے حالات خراب ہونے اور پہر ایک اپیل پر بحال ہونے سے بلکل واظہح ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پہر بہی ہم سب جانتے ہوءے نہ جانے کون سے مفادات کی خاطر چپ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا امن کی ذمہ داری کا تئیعن ابہی بہی باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرا سوچیے کراچی میں امن کی زمہ دار کون سی جمعاعت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
7/3/11
7/1/11
تجھے عشق ہو خدا کرے
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ سے اس کو جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیرے دل سے درد اُٹھا کرے
تیرے سامنے تیرا گھر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تجھے نصیب ہو نہ کوئی خوشی
تو غموں میں ہر پل جلا کرے
میں کہوں عشق تو ڈھونگ ہے
اور تو نہیں نہیں ہی کہا کرے
تیرے دل سے یہی دعا نکلے
کہ نہ گھر کسی کا جلا کرے
اسے دیکھ کر تو ٹھہر جائے
تجھے دیکھ کر وہ چلا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
تو نسبتوں میں پڑھا کرے
تجھے ہجر کی وہ جھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دعا کرے
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ سے اس کو جدا کرے
خوش آ مدید
تعلیمی نظام پورے ملک اور عوام کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اور ہمارے ملک میں نہ تو تعلیم ہے نہ نظام ۔ تو کردار کیا ادا کرے گا؟؟؟
Subscribe to:
Posts (Atom)
زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر
-
2020 SCMR 171 Specific Performance of agreement to sell --- Deposit of sale consideration, essential, failure disentitle the plaintiff...
-
The Law Updates: Latest Case Laws of Supreme Court of Pakistan : 2020 SCMR 171 Specific Performance of agreement to sell --- Deposit of...
-
In the case of “ Zakia Hussain v. Farooq Hussai ” (2020 PLD 401 ) honorable Supreme Court held that; ----“The Court elaborated that “...
-
D.N.A. EVIDENCE ITS ADMISSIBILITY, EVIDENTIARY VALUE AND RELEVANT PROVISIONS IN PAKISTANI LAW Statutory Provisions in Pakistani Law ...
-
Art. 164---Press clippings and newspaper reports---Admissibility as evidence---Factors. In the present day media revolution, accessib...
-
The Law Updates: D.N.A. EVIDENCE ITS ADMISSIBILITY, EVIDENTIARY VAL... : D.N.A. EVIDENCE ITS ADMISSIBILITY, EVIDENTIARY VALUE AND RELEVANT P...
-
T here is no direct Judgment on this point. However In the Case of Allied Bank ( 2013 C L D 1133) Hon’ble Lahore High Court, Lahore h...
-
An Article / Research Paper on " INQUEST REPORT” A Glossary of Legal Terms --- قا...
-
Jurisdiction of Supreme court of Pakistan 1. 184(1) Original jurisdiction in inter-governmental disputes, issues declaratory j...
-
The Law Updates: Jurisdiction of Supreme court of Pakistan as per C... : Jurisdiction of Supreme court of Pakistan 1. 184(1) Orig...

