The Law Updates

8/23/11

ظلم کے ظابطے میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا حبیب جالب

اے ظالم حکمرانوں کچھ تواس ملک پر اور اسکی عوام پر رحم کر کیا تمھارے بچے نہیں ہیں کیا تمھارے بھائی  نہیں ہیں ؟؟پھر کراچی میں بسنے والوں کے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ یاد رکھو اللہ کی کی لاٹھی بے آواز ہے اور کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں۔

8/15/11

یہ آزادی جھو ٹی ہے جب تک جنتا بھوکی ہے



اس آزادی کو دیکھ کر مجھے حبیب جالب کی یہ نظم یاد آتی ہے۔

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں الٹی گنگا بہتی ہے

اس دیس میں اندھے حاکم ہیں

نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں

نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں

کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت

اور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

8/14/11

جشن آزادی مبارک


جس دیس کے کوچے کوچے میں افلاس اوارہ پھرتا ہو

جو دھرتی بھوک  اگلتی ہو دکھ درد فلک سےگرتے ہوں

جہاں بھوکے ننگے بچے بھی آہوں سے پالے جاتے ہوں

جہاں سچائی کے مجرم بھی زنداں میں ڈالے جاتے ہوں

جہاں مجبوروں کے خون سے اپنے جرم بھی دھوئے جاتے ہوں

اس دیس کی مٹی برسوں سے   ،   یہ دکھ جگر پہ سہتی ہے

اس دیس کے بے حس لوگوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آزادی مبارک کھتے ہیں۔  آزادی مبارک کھتے ہیں۔۔ 

8/1/11

ملا رحمان ملک

تو جناب جی اب آپ کیا کہیں گے؟؟آپ سوچ رہے ہونگے کہ کس کے بارے میں کیا کہنا ہے۔
جناب مولانا رحمان ملک جو تلاوت فرما رہے تھے مگر ان سے تو سورۃ کی تلاوت ہی نہ ہو سکی ۔لیکن اس بات کا غصہ تو تبلیغی جماعت اور رائےونڈ کے اجتماع والوں پر نکال دیا۔اور یہ کہتے ہوئے انھیں زرا بھہی شرم نہیں آئی کہ رائےونڈ اجتماع والے دہشت گرد ہیں۔۔جناب ایسا تو ہونا ہی تھا وہ اس لیئے کہ ملک صاحب خود تو تلاوت کر
نہیں سکتے تو دوسروں کو کیسےبرداشت کریںگے۔۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر